My dream Girl Ep 1

My dream girl episode 1 

sharing it just to save it


 ایک خواب ہے میرا

ایک ایسا وقت ہو

ایک ایسا دن ہو

ایک ایسی جگہ ہو

کہ جہاں

میرے پروں کو کاٹا نہ جائے

مجھے کھلی فضاؤں میں اڑنے دیا جائے

مجھے پابندیوں کی زنجیروں میں نہ جکڑا گیا ہو

گلی میں چلتے ہوئے گھورا نہ جائے

مجھے عجیب نظروں سے نہ دیکھا جائے

میرے ہاتھوں سے کتابیں نہ چھینی  جائیں

جہاں مجھے وہ سب کرنے دیا جائے جو میں چاہوں

میں جانتی ہوں

یہ مشکل ہے

یہ خواب ہے

لیکن میں اس کو آسان بناؤں گی

اس کی تعبیر ممکن بناؤں گی

لوگ مجھے کہتے ہیں

میں پاگل ہوں

وہ سچ کہتے ہیں

میں پاگل ہی ہوں

کیوں کہ میں باغی ہوں

کیوں کہ میں نہیں مانتی

ان کی ریت و رواج

ان کے فرسودہ اصول

ان کے جاہلانہ قوانین و پابندیاں

اگر یہی میرا جرم ہے

یہی میرا قصور ہے

تو مجھے فخر ہے اس پر

اور یہ جرم

میں اک بار نہیں

بار بار کروں گی

 

 

'اس کو تو میں ہی پٹاؤں گا'۔ ان میں سے ایک نے کہا۔

'ارے وہ ساتھ والی کو دیکھو ناں!'ایک دوسرے مسٹندے کی آواز آئی۔

اوہ ہاِں یار اس طرف تو میری نظر ہی نہیں گئی۔ یہ حسینہ آج بچ کر کہاں جائے گی۔ اوکے نعیم تم نے یہ کرنا ہے کہ وہ جیسے ہی میرے قریب سے گزرنے لگے تم نے مجھے ذرا سا دھکا دینا ہے، اگلا کام میرا۔

ڈن بوس! نعیم نے ہمیشہ کی طرح تائیدی انداز میں سر ہلا دیا۔

یہ گاؤں کے دو چار آوارہ منچلوں کا گروپ تھا جن کا کام سارا دن ہر آتی جاتی لڑکی کو تنگ کرنا تھا۔پڑھائی وغیرہ سے یہ لوگ چالو تھے اور بچپن میں ہی اسکول سے  سند فراغت حاصل کر چکے تھے۔ دن کے اوقات میں وہ محلے کی لڑکیوں کو تنگ کرتے تھے ۔ بازار میں کھڑے ہو کر ہر آتی جاتی لڑکی پر ہونٹگ کرتے اور سیٹیاں مارتے ۔ان کے اس رویے کی وجہ سے محلے والوں نے اپنی لڑکیوں کو گھروں سے نکالنا چھوڑ دیا تھا ۔ والدین چونکہ اثر وردسوخ کے حامل تھے اس لیے ان کو کسی قسم کا کوئی ڈر بھی نہ تھا۔  چار لوگوں کا یہ گروپ تھا اور شہزاد ان کا غیر اعلانیہ سربراہ تھا ۔چونکہ اس کا باپ گاؤں کا نمبردار تھا اس لیے اس گینگ کی سربراہی کے لیے سب کا اس کے نام پر اتفاق تھا ۔سب اس کی بات مانتے۔ اس وقت وہ اور نعیم گورنمنٹ گرلز اسکول کے سامنے موجود تھے ۔شاہد اور ندیم اس وقت گھر تھے یا کہیں اور منڈلا رہے تھے ۔ اسکول سے چھٹی ہو چکی تھی اور ان کے مشن کا بھی آغاز بھی ہو چکا تھا۔ ان کی نظر سامنے سے آنے والی خدیجہ سلطان اور اس کی سہیلی آمنہ پر تھی ۔ دونوں سامنے سے آ رہی تھیں۔

اسکول یونیفارم میں ملبوس ، سر پر سلیقے سے دوپٹہ اوڑھے اور جھکی نظروں کے ساتھ چلتی خدیجہ سلطان  ایک عام مشرقی لڑکی تھی لیکن کچھ تھا اس کی بڑی بڑی کالی انکھوں میں جو اس کو عام اور روایتی مشرقی لڑکیوں سے ممتاز کرتا تھا ۔دوسری لڑکیوں کی طرح وہ کوئی شرمیلی یا اعتمادکی کمی کا شکار نہ تھی   بلکہ بلا کا اعتماد تھا اس میں ایک چمک تھی اس کی انکھوں میں  ۔ پندرہ سالہ خدیجہ سلطان گورنمنٹ گرلز اسکول میں میٹرک کی اسٹودنٹ تھی ۔اپنی ذہانت، قابلیت اور صلاحیتوں کی وجہ سے وہ سارے اسکول میں ممتاز تھی اور ٹیچرز کی آنکھوں کا تارہ تھی۔ وہ اپنے خوبرو چہرے،دودھیا رنگت اور منفرد اسٹائل کی وجہ سے مجمعے میں بھی ممتاز نظر آتی تھی۔     

"اوکے! آمنہ وہ نوٹس آج ہی میں تیار کر لوں گی اور کل تک تمہیں دے دوں گی"۔ اس نے ساتھ چلتی آمنہ کو یقین دلایا اور اس کو یقین آ بھی چکا تھا ۔ خدیجہ سلطان کبھی وعدہ خلافی نہیں کرتی تھی۔یہ اس کو پتا تھا۔

"تھینک یو ڈارلنگ!  "آمنہ نے اس کو ہمیشہ کی طرح  بے تکلفانہ انداز میں چھیڑا۔ وہ خدیجہ کی بیسٹ فرینڈ تھی ۔ اس کے سیل فون میں ایک ہی نمبر ولدیت، ادارے اور علاقے جیسی تفصیلات کے بغیر سیو تھا اور وہ نمبر آمنہ کا تھا جس کے لیےاس نے صرف تین لیٹرز رکھے تھے ۔

بی ایف ایف" BFF "

اور یہی اس کی دوستی کا ثبوت تھا۔ وہ اتنی جلدی لوگوں سے بے تکلف نہ ہوتی تھی ،مدد لیکن وہ ہر ایک کی کرتی تھی۔ اس کو وہ ایک الگ کیٹیگری میں شمار کرتی تھی۔

 ہینڈ بیگ کندھے پر لٹکائے ، کتابیں ہاتھ میں پکڑے وہ اپنی رو میں چل رہی تھی کہ اچانک کوئی زور سے اس سے ٹکرایا۔ پہلے پہل اس کو لگا کہ شاید غلطی سے کوئی ٹکرایا ہے۔ لیکن کچھ ہی لمحوں بعد جب اس نے اپنےپیچھے  کچھ منچلوں کی ہنسی سنی تو اس کی چھٹی حس بیدار ہوئی اور جب اس نے کنفرم کرنے کے لیے اپنے عقب میں مڑ کر دیکھا تو اس کو یقین آ گیا۔  یہ وہی گینگ تھا جن کے قصے وہ اس سے قبل بھی سن چکی تھی۔ ان کی وجہ سے اس کی کئی ایک سہیلیوں نے اسکول آنا چھوڑ دیا تھا۔     فوراَاس کی پیشانی کے تیور بدل گئے اور چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔ یہ کیفیت دیکھ کر شہزاد اور نعیم کمینگی ہنسی ہنسنے لگے۔ کوئی اور لڑکی ہوتی تو فورا سر جھکا کر گھر بھاگ جاتی لیکن وہ خدیجہ سلطان تھی جس نے ڈرنا سیکھا ہی نہ تھا۔

"ارے دیکھ نعیم! غصے میں تو اور بھی حسین لگتی ہے اپنی چھمک چھلو"۔ شہزاد نے نعیم کو کہنی مار کر کہا۔

ہاں یارررررررر! اور اس سے پہلے کہ نعیم کچھ اور کہہ پاتا، اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی اور انکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیااور چھاتا بھی کیوں ناں اس کے تو باپ نے بھی ایسا نہ سوچا تھاکہ یہ ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جاری ہے

Comments

Popular posts from this blog

حافظ صلاح الدین یوسف

Temple in Islamabad